حضرت ابو اللیث سمر قندی رحمۃ اللہ علیہ نے بعض علما سے نقل کرتے ہوئے اس کے معنی یہ بیان کیے ہیں کہ اے سلیم القلب الله عزوجل نے آپ ﷺ کو عافیت دی ہے کیونکہ تم نے ان کو اذن دے دیا، وہ فرماتے ہیں کہ اگر حضور ﷺ کو خطاب میں ابتدا کلام ’’ لِمَ اَذِنْتَ‘‘ سے کیا جا تا تو یقیناً یہ اندیشہ تھا کہ ہیبت کلام سے آپ ﷺ کا قلب مبارک شق ہو جا تا لیکن اللہ عزوجل نے اپنی رحمت سے حضور ﷺ کو پہلے ہی عفو کی خبر دے دی حتی کہ آپ ﷺ کو سکون قلب حاصل ہو گیا ، اس کے بعد فرمایا کہ کیوں آپ ﷺ نے انھیں تخلف (پیچھے رہنے) کی اجازت دے دی یہاں تک کہ عذر خواہی میں پتہ چل جاتا کہ کون صادق ہے اور کون کاذب۔
اس انداز خطاب میں اشارہ ہے کہ بارگاہ الہی میں آپ ﷺ کی بڑی قدرو منزلت ہے ، جو اہل بصیرت ہیں ان پر یہ بات مخفی نہیں ہے ، منجملہ اس کے کہ اللہ عزوجل نے آپ ﷺ کی قدر و منزلت کی ہو اور آپ ﷺ کو بھلائی سے یاد کیا ہو، یہ ہے کہ اس کی کُنہ (حقیقت، تہہ وغیرہ) کی معرفت سے پہلے ہی آپ ﷺ کے قلب مبارک کی رگیں شق ہو جائیں۔
کتاب کا مکمل نام: الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ
مختصر نام: الشفا شریف
مصنف: ابوالفضل قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ
مترجم: حضرت سید مفتی غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ
#Shorts
#الشفاء_شریف
#شان_مصطفیٰ
#IslamicShorts
#سیرت_النبی
#SeeratunNabi
#ShaneMustafa
#Islamic
#Islam
#ThinkGoodGreen